Articles by "Urdu Poetry"

Basti Say Chand Roz Kinara Karoon Ga Main

Basti Say Chand Roz Kinara Karoon Ga Main


بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں

وحشت کو جا کے دشت میں مارا کروں گا میں

ویسے تو یہ زمین مرے کام کی نہیں

لیکن اب اس کے ساتھ گزارا کروں گا میں

شاید کہ اس سے مردہ سمندر میں جان آئے

صحرا میں کشتیوں کو اتارا کروں گا میں

منظر کا رنگ رنگ نگاہوں میں آئے گا

اک ایسے زاویے سے نظارہ کروں گا میں

اے مہرباں اجل مجھے کچھ وقت چاہیئے

جب جی بھرا تو تم کو اشارہ کروں گا میں

ظفر اقبال


Mare Shehr Ke Saray Raste Band Hain Logo



Mare Shehr Ke Saray Raste Band Hain Logo




میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگو

میں اس شہر کا نغمہ گر

جو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیا

تاکہ اپنے گھر کی دیواروں سے

اپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئی

آنکھیں سہلاؤں

اپنے دروازے کے اترتے روغن کو

اپنے اشکوں سے صیقل کر لوں

اپنے چمن کے جلے ہوئے پودوں

اور گرد آلود درختوں کی

مردہ شاخوں پر بین کروں

ہر مہجور ستون کو اتنا ٹوٹ کے چوموں

میرے لبوں کے خون سے

ان کے نقش و نگار سبھی جی اٹھیں

گلی کے لوگوں کو اتنا دیکھوں

اتنا دیکھوں

میری آنکھیں

برسوں کی ترسی ہوئی آنکھیں

چہروں کے آنگن بن جائیں

پھر میں اپنا ساز اٹھاؤں

آنسوؤں اور مسکانوں سے جھلمل جھلمل

نظمیں غزلیں گیت سناؤں

اپنے پیاروں

درد کے ماروں کا درماں بن جاؤں

لیکن میرے شہر کے سارے رستوں پر

اب باڑ ہے لوہے کے کانٹوں کی

شہ دروازے پر کچھ پہرے دار کھڑے ہیں

جو مجھ سے اور مجھ جیسے دل والوں کی

پہچان سے عاری

میرے ساز سے

سنگینوں سے بات کریں

میں ان سے کہتا ہوں

دیکھو

میں اس شہر کا نغمہ گر ہوں

برسوں بعد کڑی راہوں کی

ساری اذیت جھیل کے اب واپس آیا ہوں

اس مٹی کی خاطر

جس کی خوشبوئیں

دنیا بھر کی دوشیزاؤں کے جسموں کی مہکوں سے

اور سارے جہاں کے

سبھی گلابوں سے

بڑھ کر ہے

مجھ کو شہر میں

میرے شہر میں جانے دو

لیکن تنے ہوئے نیزوں نے

میرے جسم کو یوں برمایا

میرے ساز کو یوں ریزایا

میرا ہمکتا خون اور میرے سسکتے نغمے

شہ دروازے کی دہلیز سے

رستے رستے

شہر کے اندر جا پہنچے ہیں

اور میں اپنے جسم کا ملبہ

ساز کا لاشہ

اپنے شہر کے شہ دروازے

کی دہلیز پہ چھوڑ کے

پھر انجانے شہروں کی شہراہوں پر

مجبور سفر ہوں

جن کو تج کر گھر آیا تھا

جن کو تج کر گھر آیا تھا

احمد فراز

Kya Yeh Bhi Main Batla Doon To Kon Hai Main Kya Hon


Kya Yeh Bhi Main Batla Doon To Kon Hai Main Kya Hon


کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں

تو جان تماشا ہے میں محو تماشا ہوں

تو باعث ہستی ہے میں حاصل ہستی ہوں

تو خالق الفت ہے اور میں ترا بندہ ہوں

جب تک نہ ملا تھا تو اے فتنۂ دو عالم

جب درد سے غافل تھا اب درد کی دنیا ہوں

کچھ فرق نہیں تجھ میں اور مجھ میں کوئی لیکن

تو اور کسی کا ہے بے درد میں تیرا ہوں

مدت ہوئی کھو بیٹھا سرمایۂ تسکیں میں

اب تو تری فرقت میں دن رات تڑپتا ہوں

ارمان نہیں کوئی گو دل میں مرے لیکن

اللہ ری مجبوری مجبور تمنا ہوں

بہزادؔ حزیں مجھ پر اک کیف سا طاری ہے

اب یہ مرا عالم ہے ہنستا ہوں نہ روتا ہوں

بہزاد لکھنوی

Har Shae Musafir Har Cheez Raahi Urdu Poetry By Allama IQBAL (R-A)

Har Shae Musafir Har Cheez Raahi Urdu Poetry By Allama IQBAL (R-A)

ہر شے مسافر ہر چیز راہی

کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی

تو مرد میداں تو میر لشکر

نوری حضوری تیرے سپاہی

کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی

یہ بے سوادی یہ کم نگاہی

دنیائے دوں کی کب تک غلامی

یا راہبی کر یا پادشاہی

پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے

کردار بے سوز گفتار واہی

علامہ اقبال


Yeh Payam Day Gayi Hai Mujhe Bad Subh Gahi Urdu Poetry By Allama IQBAL (R-A)

Yeh Payam Day Gayi Hai Mujhe Bad Subh Gahi Urdu Poetry By Allama IQBAL

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے

جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی

نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے

مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے تو نہ رہ نشیں نہ راہی

مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں

وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی

یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر

کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی

تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری

نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی

تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ الا

لغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی

علامہ اقبال

MKRdezign

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget